0

پسند کی شادی کروانے کا روحانی عمل

پسند کی شادی

آج کے اس دور میں ہر نوجوان لڑکی لڑکا اپنے پسند کی شادی کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے پسند کی شادی کرنا کوئی گناہ کا کام نہیں ہے۔ اگر لڑکی یا لڑکا اپنے گھر والوں کو کہہ دے ہماری شادی فلاح انسان سے کردے تو گھر والوں کو چاہیے کہ ان کی شادی اسی انسان سے کی جائے۔ بےشک نکاح ایک بہترین عمل ہے۔ بے شک نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نکاح تم اس سے کرو جو تمہیں ٹوٹ کر محبت کرے۔
لیکن ہر کوئی اپنی مرضی سے نکاح کروانا چاہتا ہے۔
لیکن بعض اوقات لڑکی یا لڑکے کے گھر والے شادی کے لیے راضی نہیں ہوتے۔ جس سے شادی کرنی ہو اگر وہ اپنے ہی خاندان میں سے ہو تو بعض اوقات گھر کے مسائل کی وجہ سے گھر والے وہاں شادی نہیں کرواتے۔
شادی میں رکاوٹ دور کرنے کا عمل۔
پسند کی شادی میں یہ مسئلہ بہت ہی عام ہے۔ جہاں بات ہو پسند کی شادی کی وہاں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو پسند کی شادی میں رکاوٹ بنتا ہے اور شادی نہ ہونے کا کہتا ہے ۔ چاہے وہ لڑکے کے ماں باپ یا لڑکی کے ماں باپ یا بہن بھائی کیوں نہ ہو۔ کوئی نہ کوئی تو ضرور ایسا ہوتا ہے جو شادی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ تو اس کے لیے یہ ایک عمل میں آپ کو بتانے جارہا ہوں۔ سب سے پہلے باوضو ہوکر بعدنماز فجر یا عشاء جمعہ کے دن یہ عمل کرنا ہے۔ باوضو ہوکر نماز فجر یا عشاء کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اول اور آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اور فاتحہ پڑھے ۔ یہ عمل لڑکی اور لڑکا دونوں ہی کریں۔ اور اور یہ عمل کرتے ہوئے اپنے ذہن میں اپنے مقصد کو رکھیں۔ انشاءاللہ چند ہی دنوں میں آپ کی رکاوٹ دور ہوجائے گی اور شادی جلد سے جلد ہو جائے گی۔

طریقہ نمبر 2 ۔

یہ طریقہ بہت ہی عمدہ اور آزمودہ ہے ۔ اس کے لیے ہمیں نمک لاہوری یا سانبھ پاکیزہ لے اور اس پر پر اول آخر گیارہ گیارہ
مرتبہ درودشریف پول 1000مرتبہ یا داودو ۔۔۔۔۔
پڑھ کر دم کرے خیال رہے کہ یہ نمک زمین پر ہرگز نہ گرے رے بہت احتیاط رکھیں۔ اور یہ نمک اس انسان کو کسی طریقے سے کھلا دیں جو اس شادی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ سارا عمل کرتے ہوئے اپنا مقصد ذہن میں رکھے اور اس انسان کو ذہن میں رکھیں جو اس شادی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اور پھر یہ نمک اس انسان کو کھلا دیں۔ انشاءاللہ چند ہی دنوں میں رکاوٹ دور ہوجائے گی اور وہ آدمی یا اور مان جائے گا شادی کیلئے اور آپ کی شادی ہو جائے گی۔

بالغ لڑکی پر جبر کرنا

حضرت علی وقاص فرماتے ہیں کہ ایک کنواری لڑکی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی میرے باپ نے زبردستی شادی کردی اور مجھے وہ لڑکا پسند نہیں تھا اس اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تجھے اختیار ہے چاہے اس نکاح کو قائم ربط یا توڑ دے دے ۔
بالغ لڑکی کا زبردستی نکاح کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے

یاد رہے یہ تمام عمل نورانی عمل ہے ان کا کوئی بھی بھی برا اثر نہیں ہوگا ہوگا جو کہ یہ سب اللہ تعالی کی کی پاک کلام قرآن مجید سے لیے گئے ہیں۔ اور قرآن مجید کسی کیلئے نقصان کا باعث نہیں بن سکتا۔ اور یہ تمام عمل کرتے ہوئے آپ کے ذہن اور دل میں پوری امید ہو کہ اس عمل سے میرا فلاں کام ہوجائے گا۔ ہول انشاءاللہ چند ہی دنوں میں ہر قسم کی رکاوٹ دور ہوجائے گی گی اور آپ کی شادی جلد سے جلد ہو جائے گی۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں